میں فیس بک کی دنیا میں ایک عہدساز شخصیت کے اضافے سے بہت خوش ہوں اور وہ شخصیت ہیں میرے ماموں فضل 
کریم ناشاد صاحب 
پشتو ادب سے شغف رکھنے والا شاید ہی ایسا کوئ شخص ہو جو اس نام سے واقف نہ ہو لوگ ان کی شاعری کے مزاج کو سمجھتے ہیں اس لئے شوق سے سنتے پڑھتے ہیں بوڑھوں جوانوںمیں یکساں مقبول ہیں ان کے بارے میں اکثر کہا کرتا ہوں ان کی شاعری بڑھاپے کی دشمن ہے بوڑھوں کو جوان بنا دیتی ہے میرا مطلب ہےاگر بوڑھے بزرگ ان کی عشقیہ مجموعئہ شاعری پڑھ لیں تو پھر سے اپنی ازواج کو پہلی والی نظر سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں فیس بک کی گلیوں میں بھٹکتے عشق مجازی کے بیماروں میں ناشاد صاحب کی شاعری سنگ میل کا کام دیتی ہے بلکہ ویکسین کا کام دیتی ہے اگر عاشقانِ مجازی کے پردادا شہنشاہ شاہجہاں نے چشم و صورت اندام نرم مورت کے چاہنے والوں کے جذبوں کو تاج محل کی صورت میں جِلا بخشی تو ناشادصاحب کے ہر مجموعے میں آپ کو اسیرانِ محبت صورت و سیرت دونوں کے زخمی دلوں کی دواء ملے گی اپنی اعلٰی طرز کی شاعری کےساتھ ساتھ سادہ مزاجی اور درویشی میں بھی اپنے ہم عصر شاعروں میں اپنی مثال آپ ہیں کبھی آپ ان سے شریک گفتگوں ہوں تو آپ کو ایک احساس بڑی شدت سے ہوگا کہ آپ ان کے لئے بڑے خاص ہیں آپ کی باتیں بڑے شوق سے سنیں گے اور تسلی بخش جواب دیں گے اس معاملے میں میرا تجربہ زرہ عجیب سا ہے میں نے اپنی ناپختہ شاعری ان کے گوش گزار کی تو پانج منٹ کی تنقیدِاصلاح سن کر میری شاعری مجھے تنہا چھوڑ کر بےوفا لونڈی کی طرح کھڑکی کے رستے فرار ہوگئ پھر میں باقی پانج منٹ سوچتا رہا کہ اب سخن موضوع کیسے بدلوں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کم بخت لونڈی جاتے جاتے اپنے ساتھ میری عقلِ کُل بھی لے گئ ذہانت کو تو ڈرون ماریں میرے منہ سے الفاظ بھی کسی گھٹیا کوالٹی کے پرفیوم کی طرح اڑ چکے تھے اور تو اور میں سانس بھی اس احتیاط سے لے رہا تھا جیسے میں بغیر اجازت کسی غیر کے گھر چپکے چپکے گھس رہا تھا
انتہائ اختصار سے ان کی شخصیت کا احاطہ پیش کروں تو ناشادصاحب اپنی ذات میں مکمل پشتو ادب ہیں ثقافت و تمدن کے علم بردار ہیں طلبِ علم کے پیاسوں کے لئے چشمئہ آبِ شیریں ہیں

Powered by Blogger.