میں نے اپنی زندگی میں اگر کسی قوم کو سب سے زیادہ مصروف عمل دیکھا ہے تو وہ ہے پاکستانی اور جس قوم کو سب سے زیادہ فارغ دیکھتا ہوں تو وہ بھی ہے پاکستانی خاموش رہتے ہیں جب خاموش رہنا نہیں بول اٹھتے ہیں جب اس کا موقع نہیں کام وہ کرتے ہیں جس کی کبھی ضرورت نہیں اس کی بڑی بڑی مثالیں آپ آئے روز فیس بک پر دیکھتے ہیں ایک صاحب ویڈیو دکھا کر بولے یہ دیکھو یہ بازاری پیر ناچ رہا ہے تو میں نے کہا تم بھی ناچ لو تو بولنے لگے بھلا میں کیوں ناچوں گا میں نے پوچھا تو کیا آپ اس کو پسند نہیں کرتے تو جھٹ سے بولے میں لعنت بھیجتا ہوں اس کام پر اور ان لوگوں پر میں نے بھی جھٹ سے جواب دیا جناب پسند نہیں تو پھر کیوں دیکھتے ہو بولے جناب آپ کو دکھانے کے واسطے میں حیرت سے بولا " کیوں وہ بولے کہ آپ کو یہ برائ دکھانی تھی میں بولا کیا وہ میرے کہنے پر ناچ رہیں ہیں یا پھر میں نے آپ کو

مجھے ایسے لگتا ہے لوگوں کے دو گروہوں میں فیس بک کو مسجد یا حجرا بنانے کا جھگڑا چل رہا ہے جیسے ہی فیس بک کی کھڑکی کھول کر دیکھوں تو منظر کچھ یوں ہوتا ہے کوئ مجھے رو رو کر موت کا منظر سنا رہا ہوتا ہے تو ساتھ میں کھڑا کوئ پشتو کا گیت سنا رہا ہوتا ہے ایک طرف طارق جمیل کی تقریر ہے تو


آج میں آپ کے ساتھ دادی کی کچھ باتیں شئیر کرتا ہوں بقول دادی کے مجھے اپنے والد گرامی سے دو شوق ورثے میں ملے ہیں ایک باقائدگی سے تہجد اور دوسرا کڑک دار چائے جب میں چھوٹی سی تھی میرے بابا مجھے سحری کے نورانی لمحوں میں نیند سے جگا کر فرماتے آؤ بیٹی میرے ساتھ چائے پی لو میں فوراً بستر سے اٹھ جاتی اور آگ کے پاس آکر بیٹھ جاتی بابا کا چائے پکانے کا طریقہ یہ تھا وہ دہکتے انگاروں پر چائنک رکھ کر چائے کو ابالا دیتے اسطرح چائے کافی دیر سے تیار ہوتی ہر اس کے پکنے کے انتظار کا الگ ہی مزا ہوتا تھا ہر طرف چائے کی خوشبو پھیل جایا کرتی تھی ایسے میں بابا فرماتے بیٹی چائے پکنے میں کچھ وقت لگے چلو تم ایسا کرو وضو کر لو ہم تب تک اکٹھے تہجد پڑھ لیتے ہیں بابا میرے وضو کے لئے گرم پانی تیار رکھتے تھے پھر ہم دونوں تہجد پڑھتے اور اس دوران چائے پک کر تیار ہوچکی ہوتی تھی پھر میں بڑے مزے سے وہ چائے پیا کرتی ۔

Powered by Blogger.