آج میں آپ کے ساتھ دادی کی کچھ باتیں شئیر کرتا ہوں بقول دادی کے مجھے اپنے والد گرامی سے دو شوق ورثے میں ملے ہیں ایک باقائدگی سے تہجد اور دوسرا کڑک دار چائے جب میں چھوٹی سی تھی میرے بابا مجھے سحری کے نورانی لمحوں میں نیند سے جگا کر فرماتے آؤ بیٹی میرے ساتھ چائے پی لو میں فوراً بستر سے اٹھ جاتی اور آگ کے پاس آکر بیٹھ جاتی بابا کا چائے پکانے کا طریقہ یہ تھا وہ دہکتے انگاروں پر چائنک رکھ کر چائے کو ابالا دیتے اسطرح چائے کافی دیر سے تیار ہوتی ہر اس کے پکنے کے انتظار کا الگ ہی مزا ہوتا تھا ہر طرف چائے کی خوشبو پھیل جایا کرتی تھی ایسے میں بابا فرماتے بیٹی چائے پکنے میں کچھ وقت لگے چلو تم ایسا کرو وضو کر لو ہم تب تک اکٹھے تہجد پڑھ لیتے ہیں بابا میرے وضو کے لئے گرم پانی تیار رکھتے تھے پھر ہم دونوں تہجد پڑھتے اور اس دوران چائے پک کر تیار ہوچکی ہوتی تھی پھر میں بڑے مزے سے وہ چائے پیا کرتی ۔
بس یہی وجہ ہے میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنی دادی کو تہجد ہڑھتے دیکھا ہے اکثر تو ایسا بھی ہوتا تھا ساری ساری رات جائے نماز پر گزار دیا کرتی تھی میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں دادی کو جنّات سے باتیں کرتے دیکھا ہے ایک بار رات میری آنکھ کھلی سردیوں کی رات تھی میں باتھ روم پیشاب کرنے گیا واپس آکر میں نے محسوس کیا دادی کے کمرے سے آوازیں آ رہی تھی میں نے کمرے میں جھانک کر دیکھا دادی کسی کو جھاڑ پلا رہی تھی پر مجھے کوئ نظر نہیں آرہا تھا پھر صبح میں نے رات والے واقعے کے بارے پوچھا تو دادی بات ٹال گئ میرے بےحد اصرار پر کہنے لگی بیٹا جنات تھے مجھے پریشان کر رہے تھے مجھے وظائف پڑھنے نہیں دے رہے تھے تو میں نے زرہ ان کی کلاس لی پر تم گھر میں کسی سے ذکر مت کرنا ورنہ گھر والے خواہ مخواہ پریشان ہونگے۔آج ہم میں سے کتنے ہونگے جو سردیوں کی سرد راتوں کو اپنے بچوں کو تہجد کے لئے اس قدر پیار شفقت سے جگاتے ہونگے ؟؟
Post a Comment